ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیرحاتمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں آج ایران کہیں زیادہ مضبوط، منظم اور طاقتور عسکری پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ نے ایرانی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں کو نئی سمت دی اور ملکی سلامتی کو مزید مستحکم کیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق میجر جنرل امیرحاتمی نے کہا کہ 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ ایرانی افواج کے لیے ایک منفرد اور غیر معمولی تجربہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایران وہ واحد ملک ہے جس نے مغربی ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور عالمی حمایت سے لیس اسرائیل کے خلاف براہِ راست اور وسیع پیمانے پر محاذ آرائی کی۔
آرمی چیف کے مطابق جنگ کے بعد گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایران نے اپنی دفاعی منصوبہ بندی، عسکری تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایران اب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے لاحق کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔
میجر جنرل امیرحاتمی نے کہا کہ ایرانی افواج نے اس جنگ سے قیمتی اسباق حاصل کیے ہیں، جن کی بنیاد پر دفاعی حکمتِ عملی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربات مستقبل میں ایران کے دفاع کو مزید ناقابلِ تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی آرمی چیف کا یہ بیان نہ صرف عسکری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ ایران اب پہلے سے کہیں زیادہ تیار، منظم اور بااعتماد ہے
