ایران میں جاری عوامی احتجاج کی لہر کے دوران خطے میں کشیدگی مزیدبڑھنےلگی ہے،جہاں قطر نے کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے “تباہ کن اثرات” سے خبردار کیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سفارتی راستوں پر غور کے ساتھ ساتھ ایسے فوجی آپشنز کا بھی جائزہ لے رہا ہے جو ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف جبر سے باز رکھ سکیں۔ یہ انکشاف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے فرانس پریس ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر بھی انتہائی تباہ کن نتائج مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے دوحہ ہر ممکن حد تک ایسے تصادم کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کے پاس ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی ممکنہ راستے موجود ہیں، جن میں ایرانی جوہری پروگرام سے وابستہ اہداف اور بیلسٹک میزائل تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن ایسے اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے جو براہِ راست ایرانی قیادت کو پیغام دیں کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
ایک امریکی اہل کار کے مطابق مکمل جنگ کے بجائے محدود اور مخصوص اقدامات بھی زیر غور ہیں، جن میں سائبر حملے اور ان داخلی سکیورٹی اداروں کے خلاف نشانہ جاتی کارروائیاں شامل ہیں جو احتجاجی مظاہرین پر تشدد میں براہِ راست ملوث ہیں۔ اہل کار نے واضح کیا کہ ان آپشنز کا مقصد ایران میں حالات کو مزید بگاڑنا نہیں بلکہ قیادت پر دباؤ بڑھانا ہے۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران میں پیر کی شام ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے، جبکہ فارس صوبے کے شہر مُشکان میں مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ ان واقعات نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود احتجاجی تحریک ابھی مکمل طور پر تھمی نہیں ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں بڑے احتجاجوں کے ردعمل میں ایرانی حکام نے نظام کے حق میں مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران کے ایک بڑے چوک میں ہزاروں افراد نے حکومت کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہل کاروں کی یاد میں سوگ منایا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے حکومت کی جانب سے طاقت کے مظاہرے اور عوامی تاثر بدلنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے نتائج نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔
