ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں پورا مشرقِ وسطیٰ شدید عدم استحکام اور تباہ کن جھٹکوں کی لپیٹ میں آ سکتا تھا، تاہم سعودی عرب، قطر اور اومان کی بھرپور اور طویل سفارتی کوششوں نے خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا لیا ہے۔
سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے جمعرات کے روز مغربی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ خلیجی ممالک کے اس اہم سفارتی ٹرائیکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوری فوجی حملے سے باز رہنے اور تہران کو ایک موقع دینے پر قائل کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب، قطر اور اومان نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر ایران پر ایک بار پھر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل جائیں گے، جس سے سلامتی کی صورتحال ناقابلِ کنٹرول ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ سے کہا گیا کہ طاقت کے بجائے دانشمندی اور مثبت سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔
سعودی عہدے دار، جنہوں نے حساس نوعیت کے معاملے کے باعث اپنا نام ظاہر نہیں کیا، نے بتایا کہ بات چیت کا عمل تاحال جاری ہے اور سفارتی رابطے کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے مسلسل جاری رکھے گئے ہیں۔
ادھر ایک روز قبل بدھ کو امریکہ نے قطر میں قائم اپنے سب سے بڑے فوجی اڈے سے امریکی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا، جبکہ سعودی عرب اور کویت میں امریکی مشنز کو بھی ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران پر حملے کی صورت میں صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اس سے قبل متعدد بار دھمکی دے چکا تھا کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا تو فوجی مداخلت کی جا سکتی ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔
خلیجی ممالک میں امریکہ کے کئی فوجی اڈے اور حساس عسکری اثاثے موجود ہیں، جس کے باعث کسی بھی تصادم کی صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔ تاہم تازہ سفارتی پیش رفت کے بعد صدر ٹرمپ نے بار بار کی دھمکیوں کے باوجود ایران کے حوالے سے اپنے جارحانہ مؤقف میں نرمی اختیار کر لی ہے۔
دوسری جانب ایک اہم ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ فی الحال کسی زیرِ حراست شخص کو پھانسی کی سزا نہیں دے گا، جسے کشیدگی میں کمی کی ایک مثبت علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی عہدے دار کے مطابق، یہ ایک طرح کی رات بھر جاری رہنے والی سفارتی جنگ تھی تاکہ بموں کے گرنے اور خطے کو آگ میں جھونکنے سے بچایا جا سکے۔ ہم نے امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں پورا علاقہ شدید اور خطرناک دھچکوں کا سامنا کرے گا۔
ایک اور خلیجی عہدے دار نے بتایا کہ ایران کو بھی واضح طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر خلیج میں امریکی فوجی اڈوں یا اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ کوششیں مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا
