مصری اسٹیٹ انفارمیشن سروس کے سربراہ ضیاء رشوان نے کہا ہے کہ غزہ میں آئندہ مرحلے کے دوران ایک انتظامی کمیٹی خدمات، بنیادی سہولیات اور تعمیرِ نو کے تمام معاملات سنبھالے گی، جبکہ حماس کو اسلحہ سے پاک کرنے کا عمل طاقت کے ذریعے نہیں ہو گا۔
"العربیہ/الحدث” کو دیے گئے انٹرویو میں ضیاء رشوان نے واضح کیا کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کسی بھی فوجی تنازع میں شامل نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق مصر اس فورس کا حصہ ہو گا اور اس کا بنیادی کردار اسرائیل کے غزہ کی پٹی سے انخلاء کی نگرانی کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں سکیورٹی کی صورتحال اس وقت تک پیچیدہ رہے گی جب تک اسرائیلی موجودگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی۔ ضیاء رشوان نے زور دیا کہ عرب-اسلامی منصوبہ غزہ کی مکمل اور جامع تعمیرِ نو پر مبنی ہے اور اسے صرف چند مخصوص علاقوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ جاری ہےفلسطینی دھڑوں اور سیاسی قوتوں نے گزشتہ روز غزہ کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ جاری کیا، جس میں مصری ضمانتوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کی حمایت شامل ہے۔ یہ بیان قاہرہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ پر متفقہ ویژن تیار کرنا تھا۔
بیان میں فلسطینی عبوری قومی کمیٹی کے قیام کے لیے ثالثوں کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا، تاکہ یہ کمیٹی فوری طور پر غزہ کی پٹی میں زندگی کے امور، انتظامی ذمہ داریاں اور بنیادی خدمات سنبھال سکے۔ح
یہ عمل "امن کونسل” اور اس سے منسلک بین الاقوامی ایگزیکٹو کمیٹی کے تعاون سے انجام دیا جائے گا، جو غزہ میں تعمیرِ نو کے پورے عمل کی نگرانی اور نفاذ کی ذمہ دار ہو گی۔
🔹 حماس کو اسلحہ سے الگ کرنے کا معاملہ
امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کا منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کا مرکزی ہدف حماس کو اسلحہ سے پاک کرنا اور تعمیرِ نو کا آغاز ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بتایا کہ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت یہ مرحلہ جنگ بندی سے نکل کر اسلحہ سے پاک کرنے، ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام اور غزہ کی بحالی کی طرف پیش رفت کرے گا۔
سٹیو وٹکوف نے زور دیا کہ واشنگٹن حماس سے اپنے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کی توقع رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ تحریک حماس کی جانب سے آخری باقی ماندہ اسرائیلی قیدی کی میت کی فوری واپسی کا منتظر ہے، بصورتِ دیگر اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، غزہ کے حوالے سے یہ نیا مرحلہ نہ صرف فلسطینی سیاست بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔
