حلب:شمالی شام میں ایک اہم فوجی پیش رفت کے دوران شامی فوج نے صوبہ حلب کے اسٹریٹجک علاقے دیئر حافر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں کشیدگی کا مرکز سمجھا جا رہا تھا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی فوج نے نہ صرف دیئر حافر بلکہ اس کے اطراف میں واقع الجیرہ کے اہم فوجی ہوائی اڈے سمیت 14 دیہات اور قصبوں پر بھی اپنی عملداری قائم کر لی ہے۔ اس پیش قدمی کو شامی حکومت کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ الجیرہ ایئر بیس خطے میں فوجی نقل و حرکت اور فضائی نگرانی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب مسکانہ کے علاقے میں شامی فوج اور کرد باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں دو شامی فوجی ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ جھڑپوں کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
شامی فوج کے ترجمان نے کرد باغیوں پر جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغیوں کی جانب سے اچانک حملوں کے بعد فوج کو جوابی کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی کا مقصد شہری علاقوں کو محفوظ بنانا اور ممکنہ خطرات کا سدباب کرنا تھا۔
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ شامی فوج نے حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے نمٹنے کے لیے فوج الرٹ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تازہ پیش رفت سے نہ صرف حلب کے مشرقی محاذ پر طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے بلکہ یہ جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے
