ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ ایران کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے عظیم قائد پر حملہ دراصل ایرانی عوام کے خلاف ہمہ گیر جنگ چھیڑنے کے مترادف ہوگا۔ یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایک اخباری انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اب ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے اور علی خامنہ ای کی 37 سالہ حکمرانی کے خاتمے پر زور دیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کی ذمہ داری امریکی صدر پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ہلاکتوں، نقصانات اور ایرانی قوم کی ساکھ کو پہنچنے والی ٹھیس کے ذمہ دار ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتا، تاہم مقامی یا بین الاقوامی مجرموں کو سزا سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر کو معاشی مشکلات کے باعث احتجاج شروع ہوا جو بعد ازاں ملک گیر مظاہروں میں بدل گیا
ٹرمپ نے متعدد بار ایران میں مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے مظاہرین کو سزائے موت دینے کی صورت میں سخت کارروائی کی وارننگ دی، تاہم بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت اجتماعی پھانسیوں کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ہے، جس کی ایران نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ موجود ہی نہیں تھا۔
