قومی پولیس کے سربراہ احمد رضا نےگزشتہ روز سرکاری ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب میں کہا کہ کئی ایرانی نوجوان ایسے ہیں جو دانستہ طور پر بدامنی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے، بلکہ بدامنی پھیلانے والے عناصر نے انہیں گمراہ یا مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکام سمجھتے ہیں کہ یہ نوجوان ریاست یا سیکیورٹی اداروں کے دشمن نہیں ہیں، اس لیے اگر وہ مقررہ مدت میں خود کو الگ کر لیں تو ان کے ساتھ نرمی برتی جا سکتی ہے۔
احمد رضا کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے لیے زیادہ سے زیادہ تین دن کی مہلت ہے تاکہ وہ قانون کی سخت گرفت سے بچنے کے لیے احتجاجی سرگرمیوں سے لاتعلقی اختیار کر لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مدت کے بعد کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور ریاست پوری قوت سے قانون نافذ کرے گی۔
واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے تھے۔ ابتدا میں یہ مظاہرے تاجروں اور دکان داروں کی جانب سے مہنگائی، افراط زر اور معاشی مشکلات کے خلاف کیے گئے تھے، تاہم کچھ ہی دنوں میں یہ حکومت مخالف مظاہروں اور پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان مظاہروں کو اسرائیل، امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی اخلاقی و سیاسی حمایت بھی حاصل رہی۔
احتجاجی تحریک جب ایرانی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بننے لگی تو ریاستی اداروں کی جانب سے سخت اقدامات سامنے آئے۔ یورپی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایرانی سیکیورٹی حکام نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اب تک لگ بھگ تین ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، تاہم یورپی ممالک سے وابستہ انسانی حقوق کے اداروں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار افراد کی تعداد بیس ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ شرپسند عناصر کی کمر توڑنا ناگزیر ہے، چاہے ان کا تعلق بیرونِ ملک سے ہو یا ملک کے اندر سے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف بدامنی پھیلانے والوں کو لازماً سزا ملنی چاہیے تاکہ ملک میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔
