سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے۔ اس تاریخی موقع پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت مختلف ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اس معاہدے کے تحت اقوام متحدہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گا۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حماس کو لازمی طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا، بصورت دیگر امریکا حماس کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور خطے میں امن کا نیا باب کھلنے والا ہے۔
اپنے خطاب میں امریکی صدر نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کم کرانے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے انہیں بتایا کہ ان کی کوششوں سے ایک یا دو کروڑ انسانی جانیں بچائی گئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے صرف 10 ماہ کے دوران 8 جنگیں رکوائیں، شام کے صدر سے براہِ راست بات چیت کی اور شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکا تیار ہے، اور ایران بھی بات چیت کا خواہاں ہے، جس سے خطے میں سفارتی حل کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
