غزہ / ڈیواس:غزہ تک خوراک، ادویات اور امدادی اشیا کی ترسیل کے لیے سب سے اہم رفح راہداری اگلے ہفتے کھولنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ راہداری مئی 2024 سے اسرائیلی فوج کے قبضے میں تھی اور غزہ کی ناکہ بندی میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھی۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی طویل ناکہ بندی کے باعث انسانی بحران شدید صورت اختیار کر چکا تھا۔ جنگ بندی کے باوجود تمام زمینی راہداریاں اسرائیلی کنٹرول میں رہیں اور ان کے ذریعے محض چند امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جاتی رہی۔
اب جنگ بندی کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد رفح راہداری کھولنے کا باضابطہ اعلان سامنے آیا ہے۔ یہ اعلان فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سربراہ علی شاث نے جمعرات کے روز کیا۔
ڈیواس سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے علی شاث نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو غزہ کے لیے قائم کیے گئے امن بورڈ کے سربراہ بھی ہیں، کی اولین ترجیح جنگ بندی کے عمل کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں جنگ بندی کو بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے، جس کا آغاز 10 اکتوبر 2025 کو ہوا تھا۔
علی شاث کے مطابق رفح راہداری کا دوبارہ کھلنا غزہ کے لیے دنیا کی جانب کھلنے والا سب سے بڑا گیٹ وے بحال کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ راہداری کھلنے کے بعد دوطرفہ آمد و رفت اور امدادی ترسیل کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نےکہامیں خوشی کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ اگلے ہفتے رفح راہداری کھول دی جائے گی، اور اس کا مطلب واضح ہوگا کہ غزہ کا محاصرہ ختم ہو چکا ہے اور جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔
تاہم اس اعلان پر رفح راہداری پر قابض اسرائیلی فوج یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر اسرائیلی قبضہ بدستور قائم ہے، جن میں وہ تمام زمینی راہداریاں بھی شامل ہیں جن کے ذریعے غزہ میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ جبکہ غزہ کے باقی ماندہ حصے پر حماس کا کنٹرول برقرار ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رفح راہداری کا کھلنا نہ صرف انسانی امداد کی فراہمی میں اہم پیش رفت ہوگی بلکہ یہ غزہ کی طویل ناکہ بندی کے خاتمے کی جانب ایک اہم سیاسی اور سفارتی موڑ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
