سابق مصری وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمرو موسیٰ نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان مضبوط تعلقات کو عرب دنیا کے مستقبل، قومی ریاستوں کے تحفظ اور خطے کو درپیش بحرانوں کے حل کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاض اور قاہرہ کے تعلقات کو مثبت، مستحکم اور ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ عرب دنیا کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے اور جاری مسائل کا مؤثر حل ممکن بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر عمرو موسیٰ، جو حال ہی میں ریاض کے دورے پر گئے تھے، نے خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں قومی ریاست کے تصور کو دوبارہ ابھرتا ہوا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی تبدیلیوں کے دوران ریاستی استحکام اور خودمختاری کے تصورات کو مرکزی اہمیت حاصل ہو رہی ہے، اور ایسے وقت میں ایک متحد اور ذمہ دار عرب قیادت کی اشد ضرورت ہے۔
اسی پس منظر میں انہوں نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان قریبی اشتراک کو ایک اسٹریٹجک ضرورت قرار دیتے ہوئے اسے “سعودی۔مصری اتحاد” کا نام دیا۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خطے میں پھیلتی افراتفری، بیرونی مداخلتوں اور غیر مستحکم کرنے والی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بنیادی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی سفارت کاری کو ایک مشترکہ وژن کے تحت آگے بڑھنا چاہیے تاکہ خطے میں توازن اور استحکام پیدا کیا جا سکے۔
ڈاکٹر عمرو موسیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عرب ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے بنیادی اسباب کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق علاقائی توازن اسی وقت ممکن ہے جب داخلی تقسیم، سیاسی تنازعات اور باہمی بداعتمادی کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
انہوں نے یہ گفتگو جمعرات کی شام کنگ فہد نیشنل لائبریری میں منعقدہ ایک مکالماتی نشست کے دوران کی، جو لائبریری کی فکری نشستوں کے سلسلے کا حصہ تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عرب دنیا اس وقت تقسیم، کمزور اور غیر منظم صورتحال کا شکار ہے۔ ان کے مطابق عرب لیگ بھی پہلے جیسی مؤثر حیثیت برقرار نہیں رکھ سکی اور نہ ہی کسی اہم معاملے پر وسیع عرب اتفاق رائے موجود ہے، بلکہ یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ مسائل قابلِ قبول حدود سے باہر نکل چکے ہیں۔
ڈاکٹر عمرو موسیٰ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ خطے میں سیاسی اور سلامتی کے استحکام کے لیے سعودی۔مصری اشتراک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اتحاد ریاض اور قاہرہ کو اس قابل بنا سکتا ہے کہ وہ خطے کے پیچیدہ مسائل، خصوصاً فلسطین کے مسئلے، کو بین الاقوامی قانون اور سفارتی مذاکرات کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر انداز میں آگے بڑھائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کی صورتحال کو تبدیل کرنے کی بڑی ذمہ داری خود عرب قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول اگر موجودہ روش برقرار رہی تو پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا بلکہ عرب دنیا کو ایک طرح کے “عرب استسلام” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈاکٹر عمرو موسیٰ نے مزید کہا کہ ریاض اور قاہرہ اپنے دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے پر متفق ہیں اور خطے کے استحکام کے مواقع کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک عرب۔اسرائیل تنازع کے حل کے لیے سیاسی راستے تلاش کرنے پر زور دیتے ہیں، جبکہ دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مؤقف کو یکجا کرنے میں بھی سعودی عرب اور مصر نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
