ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں واقع رفح سرحدی گزرگاہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں دونوں اطراف سے کھولی جا سکتی ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر ضروری منظوریوں کا عمل مکمل ہو گیا تو سرحدی گزرگاہ 48 گھنٹوں کے اندر فعال ہو سکتی ہے، جو غزہ کے لاکھوں شہریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
اسی تناظر میں ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ منظوری ملنے کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر رفح کراسنگ کا فلسطینی حصہ کھولنے کی توقع ہے، جس کے انتظامات یورپی یونین کے ایک وفد کے سپرد کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ کے ایک مختصر اجلاس میں رفح سرحد کھولنے سمیت متعدد سیکیورٹی اور انتظامی امور پر غور کیا جائے گا۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے جاری سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیش رفت مثبت سمت میں جا رہی ہے اور سرحد کی دوبارہ بحالی چند دنوں میں ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم اس عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے سیکیورٹی اور نگرانی کے معاملات پر اتفاق ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
نکولے ملادینوف کا متوقع دورہ
اسی سلسلے میں غزہ کے لیے اعلیٰ سطحی نمائندہ نکولے ملادینوف کے کل اسرائیل کے دورے کی توقع ہے، جہاں وہ رفح سرحد کی بحالی اور غزہ کی مجموعی صورتحال سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔ رفح کراسنگ، جو غزہ کو مصر سے ملاتی ہے، پٹی کے جنوبی شہر رفح کے قریب واقع ہے اور تقریباً ایک سال سے بند ہے۔
اگرچہ گزشتہ سال اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے، اسرائیل نے غزہ تک رسائی سے متعلق سخت پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ رفح سرحد کو غزہ کے تقریباً 20 لاکھ باشندوں کے لیے بیرونی دنیا سے رابطے کا سب سے اہم اور اکثر واحد زمینی راستہ سمجھا جاتا ہے۔
غزہ کا عارضی انتظام سنبھالنے والی امریکہ نواز فلسطینی عبوری کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ رفح سرحد جلد کھلنے کی امید ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام سرحد سے گزرنے والے افراد کی تعداد کو محدود رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ غزہ چھوڑنے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے زیادہ ہو۔
باخبر ذرائع کے مطابق رفح سرحد کی بحالی کا معاملہ انسانی امداد، طبی انخلا اور شہری آمدورفت سے جڑا ایک حساس سفارتی موضوع بن چکا ہے، جس پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
