اسرائیلی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ نے تل ابیب کے بن گوریان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریٹ کرنے والی غیر ملکی ایئر لائنز کو ایک باضابطہ سکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام سے خطہ ایک "حساس سکیورٹی دورانیے” میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائیوں سے متعلق قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔
اسرائیلی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ شموئیل زکائی نے غیر ملکی ایئر لائنز کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ ادارہ ہفتے کے اختتام کی تعطیلات سے قبل ایک غیر معمولی سکیورٹی مرحلے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حدود کی ممکنہ بندش کی صورت میں ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جیسا کہ ماضی میں جون 2024 اور 2025 کے بعض ادوار میں کیا جا چکا ہے۔
زکائی کے مطابق اگر فضائی حدود کی بندش یا پروازوں کی معطلی کی نوبت آتی ہے تو غیر ملکی ایئر لائنز کی روانہ ہونے والی پروازوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ان کے محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی فضائی آپریشنز کے لیے ایک اہم وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوجی ریڈیو نے حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اس ہفتے امریکی فوجی تعیناتی کی سطح ریکارڈ حد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سطح گزشتہ برس ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی عسکری ادارے خطے میں امریکی افواج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تعیناتی یا تو ایران کے خلاف ممکنہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے یا تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک مؤثر عسکری پیغام سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ میں اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ واشنگٹن میں ایران سے متعلق مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے کسی حتمی فوجی کارروائی کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث فضائی سفر، سفارتی رابطوں اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ایئر لائنز اور بین الاقوامی آپریٹرز صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
