فرانس نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران میں فوجی مداخلت پیرس کے لیے کوئی پسندیدہ آپشن نہیں۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر ایران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
فرانس کے نگران وزیر دفاع ایلس روفو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ فرانس ایرانی عوام کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم ان کے بقول ایران کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود ایرانی عوام کو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں ایرانی عوام کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرنی چاہیے، ان کی آواز بننا چاہیے، مگر فوجی مداخلت ہمارا ترجیحی راستہ نہیں۔”
فرانسیسی وزیر نے مزید کہا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی اگر ہونی ہے تو وہ ایرانی عوام کے اپنے فیصلے سے ہونی چاہیے، بیرونی طاقتوں کے ذریعے نہیں۔
ایلس روفو کے مطابق ایران میں احتجاجی تحریک کا آغاز بازاروں سے ہوا، جس کی بنیادی وجوہات مہنگائی اور معاشی مشکلات تھیں، تاہم یہ تحریک تیزی سے پھیل کر سیاسی رنگ اختیار کر گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام موجودہ نظام سے نالاں دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف ایرانی مردوں اور عورتوں کو ہے۔
انہوں نے ایران میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ کی بندش پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے باعث مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں کئی بار سخت بیانات دے چکے ہیں، جن میں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی شامل رہی ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان کے لہجے میں کسی حد تک نرمی بھی دیکھی گئی ہے۔
ایران میں شروع ہونے والے احتجاجات دسمبر کے آخر میں معاشی مطالبات کے ساتھ شروع ہوئے تھے مگر بعد میں یہ سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ مبصرین کے مطابق یہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایرانی قیادت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکے ہیں۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار کے حوالے سے مختلف ذرائع مختلف دعوے کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کے اندازوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور کریک ڈاؤن کا الزام عائد کر رہی ہیں، جبکہ ایرانی حکام ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر زور دے رہے ہیں۔
فرانس کا یہ بیان اس وسیع تر مغربی سفارتی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس میں ایران پر دباؤ تو برقرار رکھا جا رہا ہے، مگر براہ راست فوجی تصادم سے گریز کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپی ممالک ایران کے معاملے پر انسانی حقوق کی حمایت اور سفارتی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
