ابوظبی:متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نےایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی معاندانہ فوجی کارروائی میں اپنی فضائی حدود، سرزمین یا سمندری حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا، نہ ہی ایسی کسی کارروائی میں لاجسٹک مدد فراہم کرے گا۔ یہ اعلان خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے، جس میں امریکا اور ایران کے مابین کشمکش خاص طور پر نمایاں ہے۔
اماراتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مذاکرات، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کو موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بہترین اور پائیدار بنیادیں قرار دیا ہے۔ اماراتی خبر رساں ایجنسی وام (WAM) نے رپورٹ کیا کہ یو اے ای نے سفارتی ذرائع اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی اپنی مستقل پالیسی پر بھرپور زور دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن کی فضا کو فروغ دینا ہے۔
یہ اہم بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی لڑاکا طیارے اور عسکری ساز و سامان مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، تاکہ کئی روز تک جاری رہنے والی جنگی تیاریوں کی مشقیں کی جا سکیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی پہلے واضح کیا تھا کہ امریکا خطے میں اپنے فوجی اثاثوں کی موجودگی کو مضبوط کررہا ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران متعدد بار ایران کے خلاف فوجی آپشن کے امکانات کا اشارہ دیا تھا، جس نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی تھی۔ تاہم ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کی سزائے موت روکنے کے اشارے کے بعد انہوں نے اپنے بیانات کی شدت میں کمی کی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا اپنے موقف میں کچھ لچک پیدا کر رہا ہے۔
یو اے ای کے تازہ موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ابوظبی خطے میں کسی بھی فوجی محاذ آرائی کا حصہ بننے سے گریز کرتا ہے اور ترجیح سفارتی حل، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو دیتا ہے۔ اس فیصلے کو ماہرین نے خلیجی ممالک کی خودمختاری، علاقائی امن اور عالمی تعلقات میں توازن کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ اس کا مقصد ممکنہ فوجی تنازعات سے بچنا اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ پیش رفت اس عالمی تناظر میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور مختلف ممالک اپنے موقف اور سفارتی پالیسیوں کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یو اے ای کا یہ مؤقف بے نتیجہ عسکری تصادم کے خطرے کے درمیان خطے میں قومی خودمختاری، سفارتی حل اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو عالمی سلامتی اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے
