۔نیویارک: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ایک اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے جواب میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ریاست کے خلاف بلااشتعال عسکری کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ اقوامِ متحدہ کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور پاکستان کو بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنے خطاب میں عاصم افتخار نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور سے ہٹ کر کیے جانے والے یکطرفہ اقدامات عالمی اجتماعی سلامتی کے نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ ان کے بقول اس طرح کے اقدامات کثیرالجہتی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور عالمی نظم و نسق میں عدم توازن پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خود بھی ایسے اقدامات کا سامنا کیا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم تھے۔
پاکستانی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت نے مئی 2025 میں بلااشتعال عسکری جارحیت کی، جو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا فطری حق حاصل ہے، اور پاکستان نے اسی قانونی جواز کے تحت جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جبر، طاقت یا استثنیٰ کی بنیاد پر قائم ہونے والا کوئی بھی “نیا معمول” عالمی برادری کے لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
عاصم افتخار نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی قراردادوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور منظم نگرانی کا طریقہ کار وضع کرے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ سلامتی کونسل کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے ساتھ زیادہ مربوط اور منظم تعاون بڑھانا چاہیے تاکہ عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور تنازعات کے حل کے لیے قانونی راستوں کو مضبوط کیا جا سکے۔ ان کے خطاب کو ماہرین نے عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی، خودمختاری کے احترام اور کثیرالجہتی نظام کے دفاع کے حوالے سے پاکستان کے واضح اور دوٹوک مؤقف کے طور پر دیکھا ہے۔
