امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کے خطرات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جب کہ سفارتی حل کی امیدیں اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور خطے میں امریکی بحری سرگرمیوں میں اضافے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست آئیووا میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا ایک “شاندار بحری بیڑا” ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے گا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے سخت لہجے میں دعویٰ کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے سے صرف ایک ماہ کی دوری پر تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جون میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔ ان بیانات کو ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کا جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن عمان کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس جدید طیارہ بردار جہاز میں تقریباً 6 ہزار فوجی اہلکاروں اور 70 لڑاکا طیاروں کی گنجائش موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن آخری مرتبہ 2002 میں عراق جنگ کے دوران خلیج فارس آیا تھا، جس سے خطے میں تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ادھر ایران نے بھی ممکنہ جنگ کے خدشے کے پیشِ نظر فوجی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہاز ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر عراق کو بھی کھلی دھمکی دے دی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر عراق میں نور المالکی کو وزیراعظم منتخب کیا گیا تو امریکا عراق کی امداد بند کر دے گا، جس کے بعد عراق ترقی نہیں کر سکے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت، سخت بیانات اور علاقائی سیاست میں براہِ راست مداخلت نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں کسی بھی غلط اندازے کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
