اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر اہم خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے مسئلہ فلسطین کو خطے میں جاری عدم استحکام کی بنیادی اور مرکزی وجہ قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جاتے، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب نے غزہ میں جاری جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عام شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے غزہ پر حملوں، جبری نقل مکانی اور وسیع پیمانے پر تباہی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ان تمام کارروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی تنصیبات اور خصوصاً اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے پر حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا انسانی المیے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت پیش کیے گئے امن منصوبے پر فوری اور مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی فوری تعمیر نو وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ پاکستان نے ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کا اعادہ کیا جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی بنیاد پر ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔ عاصم افتخار نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی غیر متزلزل ہے اور یہ اصولی مؤقف ہمیشہ برقرار رہے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستانی مندوب نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف غزہ بلکہ شام اور لبنان میں بھی اپنی غیر قانونی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، کیونکہ ایسی کارروائیاں پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
