یورپی، شمالی امریکی اور دیگر ممالک نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ محصور غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنائے، کیونکہ وہاں کی انسانی صورتحال اب بھی انتہائی تباہ کن ہے۔
فرانس، کینیڈا، برطانیہ، بیلجیئم، ڈنمارک، آئرلینڈ، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، پرتگال اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اگرچہ غزہ میں امداد کی مقدار میں کچھ اضافہ ہوا ہے، لیکن وہ امدادی سامان عوام کی بنیادی ضروریات خوراک، دوا، پانی اور پناہ گاہ کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ان ممالک نے یاد دلایا کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس جیسے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور اس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کا عزم شامل تھا۔
بیانیے میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کو مکمل طور پر کام کرنے کی اجازت دے، سخت رجسٹریشن ضوابط میں نرمی لائے، تمام سرحدی راستے فوری طور پر کھولے اور خاص طور پر رفح گذرگاہ کو دو طرفہ فعال کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اس مشترکہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے گذشتہ پیر کو غزہ سے آخری یرغمالیوں کی واپسی کا اعلان کیا، جسے امن مذاکرات میں پیش رفت کی شرط سمجھا گیا، اور اس پیش رفت نے رفح گذرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی راہ میں کچھ امید پیدا کی ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی تنظیمیں طویل عرصے سے اسی گذرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ امدادی سامان بلا رکاوٹ پہنچ سکے، لیکن اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ گذرگاہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھولی جائے گی اور اس پر جامع اسرائیلی تلاشی کا نظام نافذ رہے گا۔ بیانیے میں شامل ممالک نے مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین فلسطینی ایجنسی انروا کے دفتر کو 20 جنوری کو مسمار کرنے کی بھی سخت مذمت کی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اقدام ایجنسی کی کام کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کی ناقابل قبول کوشش ہے۔
اسرائیل نے انروا کے عملے پر حماس کے عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم یہ دعویٰ بغیر ٹھوس ثبوت کے کیا گیا۔ انروا اب بھی مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں انسانی خدمات فراہم کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے، اور بین الاقوامی برادری کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوری، بلا رکاوٹ اور مؤثر امدادی رسائی انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
