یورپی یونین نے ایران کی مسلح فورس ‟پاسدارانِ انقلاب“ (Islamic Revolutionary Guard Corps – IRGC) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے، جسے خطے اور عالمی سطح پر سفارتی اور سکیورٹی لحاظ سے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اعلان کیا کہ 27 رکنی بلاک کے وزرائے خارجہ نے باہمی اتفاق سے IRGC کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اسے القاعدہ، حماس اور داعش جیسے گروہوں کے برابر سمجھا جائے گا۔ کالاس نے کہا ہے کہ جو حکومت اپنے ہی لوگوں کو وسعت سے قتل کرتی ہے، اسے اس کا جواب دینا ہوگا۔اس فیصلے کا مقصد ایران میں ریاستی تشدد اور آزادی اظہار کے خلاف سخت ردعمل کو روکنا ہے۔
اس قدم کے ساتھ ہی یورپی یونین نے چند ایرانی حکام، سیکیورٹی فورسز اور اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کے اثاثے منجمد ہوں گے اور انہیں EU میں سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کو قانوناً جوابدہ بنانا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، اسے “غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور ایران دشمن اقدام” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یورپی یونین نے یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کی غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید میں کیا ہے۔ ایران کے جنرل اسٹاف اور وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام ایرانی قوم، مسلح افواج اور ملک کی خودمختاری کے خلاف دشمنی کا اظہار ہے، جس کے ممکنہ تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب ایران کی 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی ایک طاقتور مسلح فورس ہے، جو براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے اور دفاع، بیرونی آپریشنز، بیلسٹک میزائل پروگرام، جوہری تعاون اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ پیش رفت یورپی یونین اور ایران کے تعلقات میں نمایاں تناؤ پیدا کر رہی ہے اور اسے عالمی باروں پر ایران کے اندرونی سیاسی بحران اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
