اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ کے دو سال سے جاری خونریز بحران کے بعد پہلی بار غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے قریب قریب نتیجے کو تسلیم کر لیا ہے، جس کے مطابق تقریباً 71,667 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعلان ایک اہم موڑ ہے کیونکہ پہلے اسرائیلی حکومت نے ان اعداد کو “غلط، گمراہ کن اور غیر معتبر” قرار دیا تھا، لیکن اب اعلیٰ سکیورٹی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ مجموعی اموات کا تخمینہ تقریباً 70,000 سے 71,000 کے درمیان ہے، جس میں ملبے تلے لاپتہ افراد شامل نہیں ہیں اور حقیقی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 171,000 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے، خواتین اور بوڑھے شامل ہیں، اور متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ وہ اعداد و شمار ان افراد کو بھی شامل کرتے ہیں جو ہسپتالوں میں رپورٹ ہوئے یا اہلِ خانہ نے ان کی اطلاعات فراہم کیں، اور اب بھی کئی لاشوں کو ملبے تلے نکالا جا رہا ہے۔
مزید برآں، بھوک، غذائی قلت اور بنیادی انسانی سہولیات کی عدم دستیابی نے بھی ہلاکتوں میں حصہ ڈالا ہے۔ غزہ میں پانی، بجلی، طبی امداد اور خوراک کی قلت نے عام شہریوں کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے، اور اقوامِ متحدہ سمیت متعدد عالمی انسانی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ یہ بحران ایک وسیع انسانی سانحے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود تشدد اور حملے جاری رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق فائر بندی کے بعد بھی سیکڑوں افراد مارے گئے ہیں، اور شمالی و جنوبی غزہ میں حملوں کے نتیجے میں غیر لڑاکا افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔ متعدد غیر سرکاری تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی مکمل امن میں تبدیل نہیں ہوئی اور اب بھی بے گناہ شہری جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق وہ اب بھی جانچ کر رہی ہے کہ ہلاک شدگان میں کتنے عام شہری ہیں اور کتنے جنگجو، اور یہ کہ تمام لاشیں ابھی تک اکٹھی نہیں کی گئیں کیونکہ غزہ کے بعض حصے اب بھی امدادی رسائی سے باہر ہیں۔ اس لیے عالمی بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں توقع کرتی ہیں کہ اموات کی مجموعی تعداد مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی، جس میں حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر اور بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا۔ دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر نقصان اور انسانی المیے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے اور متعدد بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی بھی دیکھی گئی ہے۔
