امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر ایران کے خلاف ایک بڑا اور طاقتور عسکری حملہ کرنے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کو محدود کرنے کے لیے ہونے والی ابتدائی مذاکرات کسی ٹھوس پیش رفت تک نہیں پہنچے۔ سی این این نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس متعدد عسکری آپشنز زیرِ غور ہیں، جس میں ایرانی رہنماؤں، سیکیورٹی حکام، جوہری تنصیبات اور حکومتی اداروں کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
سی این این کے ذرائع کے مطابق اس پیش رفت میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف کے درمیان براہِ راست بات چیت کے امکانات پر بھی بات ہوئی، لیکن وہ ملاقات حقیقت کا روپ نہ دھار سکی۔ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان عمانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی کیا گیا تاکہ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے، تاہم کوئی واضح حل سامنے نہیں آیا۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن انہوں نے امریکی بحری بیڑوں اور فوجی ساز و سامان کو وسطی مشرق میں مضبوط پوزیشن میں لا کر اپنی فوجی اختیارات میں اضافہ کیا ہے، جس سے ممکنہ حملے کی تیاری بڑھ گئی ہے۔
ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی سرکاری اداروں اور رہنماؤں کو ان مظاہروں کی شدید سرکوبی کا ذمہ دار سمجھتی ہے جن میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، اور ان افراد کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ریاستہائے متحدہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو ہدف بنانے کے آپشنز پر بھی غور شروع کر دیا ہے، خاص طور پر وہ تنصیبات جو مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری یا بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی بحری اور فضائی فورسز کی موجودگی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں USS Abraham Lincoln اور دیگر جنگی جہاز شامل ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیے گئے ہیں — یہ امریکہ کا سب سے بڑا فوجی بیڑہ ہے جو ایران کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس سخت موسمی و سیاسی تناؤ کے درمیان منظرِ عام پر آئی ہے جب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور ایک منصفانہ معاہدہ کرنا چاہیے جس میں جوہری ہتھیاروں کو مسترد کیا جائے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا تو اگلا حملہ پچھلے موسمِ گرما کے حملوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔
ایران نے اپنے سرکاری ردعمل میں واضح کیا ہے کہ اس نے ہمیشہ مساوی اور منصفانہ مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن دھمکیوں پر مبنی مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا فوری اور مضبوط جواب دیں گے۔
علاقائی طاقتوں، بشمول سعودی عرب، قطر اور اومان نے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے، تاہم تناؤ بدستور برقرار ہے۔
اگرچہ ابھی تک ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن امریکی انتظامیہ کی فوجی بالادستی اور زمینی تیاری نے کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جس سے خطے میں امکانِ تصادم، معاشی عدم استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
