امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ایٹمی معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم امریکا ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے اور تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی وزارت دفاع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منظور کردہ کسی بھی فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرے گی۔
ہیگستھ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹ کام نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں ایک طاقتور بحری سٹرائیک فورس تعینات کر دی گئی ہے، جس کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہم لنکن” کر رہا ہے۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ بحری بیڑا ضرورت پڑنے پر ایران پر حملہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب مغربی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں مبینہ تشدد کے ذمہ دار رہنماؤں اور حکام کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے مشیر ایسے ممکنہ حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے طویل المدتی اثرات مرتب ہوں۔
ان ممکنہ اہداف میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ایران پر بمباری کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ ملک کے اندر نئے مظاہروں کو ہوا دی جا سکے۔ مبصرین کے مطابق یہ اشارہ دیتا ہے کہ واشنگٹن ایران میں سیاسی تبدیلی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی حکمت عملی پر بھی سوچ رہا ہے۔
تاہم ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اب تک ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی اقدام کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
