موکھا ایئرپورٹ کی افتتاحی پروازمنسوخ، حوثیوں کی مداخلت پر تنازع شدت اختیار کر گیا،جدہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے یمن کے صوبہ تعز میں واقع موکھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی یمنی ایئرلائن کی پرواز کو اڑان بھرنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد واپس لوٹنا پڑ گیا، جب حوثی گروپ نے طیارے کو یمنی فضائی حدود میں داخل ہونے اور لینڈنگ کی اجازت دینے سے روک دیا۔ اس واقعے نے یمن میں شہری ہوا بازی کی بحالی کی کوششوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
یہ پرواز موکھا ایئرپورٹ کی پہلی باقاعدہ تجارتی پرواز تھی جس کا اتوار کے روز افتتاح ہونا تھا۔ اس موقع کو ایک اسٹریٹجک سنگِ میل قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ اس نئے فضائی راستے کے ذریعے یمن کے مغربی ساحلی علاقے کو بیرونی دنیا سے جوڑنے کی امید کی جا رہی تھی۔
حوثیوں پر فضائی نیویگیشن کنٹرول استعمال کرنے کا الزام عائدکیاگیاہے،موکھاایئرپورٹ کےڈائریکٹرجنرل خالد عبداللطیف کےمطابق پرواز باقاعدہ سرکاری شیڈول کا حصہ تھی،تاہم حوثی گروپ نے صنعاء میں قائم ایئر نیویگیشن سینٹر پر اپنے کنٹرول کو استعمال کرتے ہوئے طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مکمل طور پر من مانا اور شہری ہوا بازی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر 152 مسافر گھنٹوں سے پرواز کے انتظار میں موجود تھے، جن میں بزرگ اور بیمار افراد بھی شامل تھے۔ یہ مسافر مختلف صوبوں سے سفر کر کے موکھا پہنچے تھے تاکہ جدہ جا سکیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان مسافروں کے قیام و طعام کا ہنگامی بندوبست کیا جا رہا ہے۔
یمن حکومت کا سخت ردعمل سامنے آیاہے،یمن کی وزارتِ نقل وحمل اورعدن میں قائم سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس واقعے کی شدیدمذمت کرتےہوئےاسے“خطرناک اشتعال انگیزی”قراردیاہے۔وزارت کے بیان میں کہاگیاکہ اس اقدام کا مقصدیمن میں فضائی سفرکو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کوسبوتاژ کرناہے، جو بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وزارت نے کہا کہ شہری ہوائی اڈوں اور پروازوں کو نشانہ بنانے کے نتائج براہِ راست عام شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں اور اس سے انسانی ہمدردی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ بیان میں عالمی شہری ہوا بازی کی تنظیم (ICAO) اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یمن میں شہری ہوا بازی کے تحفظ کے لیے فوری قانونی اور سفارتی اقدامات کریں۔
پرانا تنازع دوبارہ سر اٹھانے لگا
یہ پہلا موقع نہیں جب موکھا ایئرپورٹ تنازع کا مرکز بنا ہو۔ اپریل 2024 میں بھی حوثی گروہ نے اس ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جب یمنی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہوائی اڈہ پروازوں کے لیے تیار ہے۔ اس وقت حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایئرپورٹ کے کسی بھی مبینہ امریکی یا اسرائیلی استعمال کو روکنا چاہتے ہیں۔
فضائی رابطوں کی بحالی پھر غیریقینی کاشکارہوگئی ہے،ماہرین کےمطابق یہ واقعہ ظاہرکرتاہےکہ یمن میں فضائی حدوداورشہری ہوابازی اب بھی سیاسی اورعسکری کشمکش سےآزاد نہیں ہوسکے۔موکھا ایئرپورٹ کوفعال کرنا نہ صرف معاشی بلکہ انسانی بنیادوں پر بھی اہم سمجھا جا رہا تھا، خاص طور پر ان مریضوں اور مسافروں کے لیے جو بیرونِ ملک سفر کے محتاج ہیں۔
تاہم حالیہ پیش رفت نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ یمن میں امن اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا عمل بدستور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جہاں ایک پرواز بھی علاقائی طاقت کی سیاست میں پھنس سکتی ہے۔
