امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ پینٹاگون (امریکی وزارت دفاع) اپنے اڈوں پر فضائی دفاعی نظام مضبوط کرنےمیں مصروف ہے،جس سے خطےمیں کشیدگی اورعالمی توجہ دونوں بڑھی ہوئی ہیں۔تاہم اس کشیدگی کےدوران سفارت کاری کےدروازے کھلے ہیں
امریکی حکام نے معروف امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بیانات محض حربے نہیں، بلکہ باقاعدہ سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سفارت کاروں کو معاہدے کی کوششیں آگے بڑھانے کی اجازت دیں۔
اطلاعات ہیں کہ رواں ہفتے انقرہ (ترکی) میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی حکام کے مابین ملاقات کے امکانات پر ثالثوں نے کام شروع کر دیا ہے، جس سے مذاکرات کے امکانات میں پھر سے جان آئی ہے۔
پینٹاگون دفاعی تیاریوں کو بڑھا رہا ہے،ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے کسی بڑے حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانا شروع کر دیا ہے۔ پینٹاگون THAAD (تھاڈ) میزائل دفاعی نظام کے علاوہ پیٹریاٹ سسٹمز بھی ان امریکی اور حلیف اڈوں پر نصب کر رہا ہے جہاں امریکی افواج موجود ہیں، تاکہ جوابی یا پیش بندی حملوں کا مؤثر دفاع ممکن ہو سکے۔
اخبار کے مطابق مستقبل قریب میں واشنگٹن کے حملے کے امکانات کم ہیں، لیکن اگر صدر ٹرمپ نے حملے کا حکم دیا تو امریکی فوج محدود کارروائی کر سکتی ہے،خاص طور پر اگر ایران کی جانب سے کوئی خطرہ ہو۔
فی الحال وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ طاقت استعمال کرے گا یا نہیں، لیکن دفاعی تیاریوں کی تیز رفتار کارروائی اس کشیدگی کے سوچے سمجھے رخ کو ظاہر کرتی ہے۔
ایرانی مؤقف سامنےآیاہےکہ جنگ نہیں، مگر شدید ردعمل ممکن ہے،ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ صرف ایک مقامی جھڑپ نہیں رہے گی بلکہ ایک علاقائی تصادم بن جائے گی۔ ان کا مؤقف ہے
ایران پہلےحملہ نہیں کرےگا
مگر اگر کسی نے عسکری جارحیت کی تو ایران زور دار جواب دے گا،ایرانی عوام کو بین الاقوامی ہتھیاروں کی تعیناتی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے
انہوں نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کو بھی بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اندرونی طور پر کسی بحران سے دوچار نہیں ہے جو ملک کو غیر مستحکم بنائے۔
یورپ نےبھی سفارت کاری کی حمایت کا اعلان کیاہے،فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے فرانس کے اخبار لیبریشن میں کہا کہ ایران کو ممکنہ امریکی حملوں کے خوف سے بچنے کے لیے سفارتی مذاکرات کو اپنانا چاہیے۔ ان کے مطابق:
امریکہ خود کو ایسا مقام دے چکا ہے جہاں وہ فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے،اسی لیے ایران کو سفارتی راستے کو اختیار کرنا چاہیے،مذاکراتی فریم ورک میں بنیادی مراعات پہلے ہی پیش ہوئی ہیں
امریکی دفاع اورسفارت کاری، دومتوازی راستےہیں،مجموعی طور پرصورتحال ایسے منظرنامےکی طرف بڑھ رہی ہے جہاں واشنگٹن سفارتی مکالمے کو ترجیح دے رہا ہے
پینٹاگون دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر رہا ہے،ایران سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، مگر جنگ سے انکار بھی کر رہا ہے
یورپی پارٹیوں نے مذاکراتی حل کو تقویت دی ہے،یہ کشیدگی نہ صرف دو جانبہ تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی اور استحکام کے مستقبل پر بھی گہرا اثر ڈال رہی ہے۔
