پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کویت کے ساتھ مجوزہ لیبر تعاون معاہدے پر دستخط کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جسے ممکنہ طور پر کویت کے ولی عہد کے آئندہ دورۂ پاکستان کے دوران حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کی کویت کی پبلک اتھارٹی فار مین پاور (PAM) کی ڈائریکٹر جنرل رباب عبداللہ العثیمی سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے دیرینہ، برادرانہ تعلقات اور لیبر تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان معاشی دباؤ اور بے روزگاری کے چیلنجز کے پیشِ نظر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ خلیجی ممالک بالخصوص انفراسٹرکچر، تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چوہدری سالک حسین نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک ملازمتیں پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جو زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور لاکھوں خاندانوں کی معاشی بہتری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کویت کے ساتھ اپنے مضبوط اور تاریخی تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور لیبر سے متعلق مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کے لیے تیار ہے، تاہم کویتی ولی عہد کے دورے کی حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ ملاقات میں حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کے مثبت نتائج کا جائزہ لیا گیا اور کویتی حکام کی جانب سے لیبر تعاون بڑھانے کے لیے حوصلہ افزا ردِعمل سامنے آیا۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر پاکستان کو کویت کی پبلک اتھارٹی فار مین پاور کے ڈیجیٹل پورٹل تک رسائی دینے کی درخواست بھی کی، جو غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، ورک پرمٹس اور آجران کی رجسٹریشن کے لیے سرکاری نظام کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس پورٹل تک رسائی ملنے سے پاکستانی حکام اور لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو کویت کے لیبر سسٹم سے براہِ راست رابطہ ممکن ہو سکے گا، جس سے نہ صرف بھرتی کے عمل میں تیزی آئے گی بلکہ غیر قانونی اور غیر رسمی بھرتیوں کی روک تھام بھی ہو سکے گی۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ماضی میں پاکستانی محنت کشوں نے کویت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی وہ انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں کویت کی افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے لیبر تعاون کو ادارہ جاتی بنیادوں پر آگے بڑھانے، باقاعدہ مشاورت کے نظام کو مضبوط بنانے اور شفاف و محفوظ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے نہ صرف پاکستانی ورکرز کو فائدہ ہو گا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی طویل المدتی سہارا ملے گا۔
