ایران اور امریکہ جوہری مذاکرات جمعے کو ترکی کے شہر استنبول میں دوبارہ شروع ہونے جا رہے ہیں جس کا مقصد شدید کشیدگی کے دوران پر امن حل تلاش کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس اہم نشست میں شرکت کریں گے، جس کے بارے میں امریکی اور ایرانی عہدیدار دونوں نے اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ نے مذاکرات سے پہلے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام میں یورینیم افزودگی کو روکنے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور خطے میں تحریکوں کی حمایت بند کرنے جیسے اقدامات چاہتا ہے، جبکہ امریکی بحری بیڑے کو ایران کے قریب تعینات کرنے کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام رہے تو “سنگین نتائج” سامنے آسکتے ہیں، جس سے علاقائی جنگ اور مزید عسکری بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے اس موقف کی تردید کی گئی ہے کہ یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر ختم کرنا ناممکن ہے اور اس نے اپنی خودمختاری اور دفاعی پروگرام کی حفاظت پر زور دیا ہے، تاہم تہران نے کچھ دوسرے طریقوں یا معاہدوں میں لچک دکھانے کی بھی بات کی ہے بشرطیکہ اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں اور اعتماد بحال ہو۔
اس بار مذاکرات میں صرف ایران اور امریکہ ہی نہیں بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور مصر جیسے علاقائی ممالک بھی شریک ہوں گے، جن کا مقصد خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔ یہ عالمی سفارتی کوششیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب سیٹلائٹ امیجز اور دفاعی پیشن گوئیوں کے باعث عالمی ادارے بھی ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو گئے تو عبوری یا طویل المدتی امن معاہدہ سامنے آ سکتا ہے اور خطے میں تناؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن ناکامی کی صورت میں دباؤ، عسکری جوابی اقدامات، اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ جمعے کو طے شدہ مذاکرات امید اور خطرے دونوں کے بیچ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جس میں سفارتی کامیابی امن کی راہ ہموار کرے گی اور ناکامی مزید بحرانوں کو جنم دے سکتی ہے۔
