غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں بدھ کے روز ہونے والے فضائی حملوں میں بچوں سمیت کم از کم 21 فلسطینی شہید اور 31 زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو ایک ماہ گزرنے کے بعد پیش آیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاہدہ عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ حماس کی جانب سے اسرائیل پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خان یونس کے علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کے گھروں اور عارضی خیموں پر فضائی حملے ہوئے، جس کے بعد تین لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔ الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ اسپتال میں زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے، جبکہ ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے جوابی کارروائی اس وقت کی گئی جب فوج پر فائرنگ کی گئی، جس کے دوران ایک اسرائیلی افسر شدید زخمی ہوا۔ دونوں جانب سے حملوں کے بڑھنے کے بعد غزہ میں انسانی بحران گہرا ہو گیا ہے، اور مقامی اسپتالوں میں زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے وسائل ناکافی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وقت غزہ میں نہ صرف انسانی جانوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے بلکہ بنیادی سہولیات کی کمی بھی علاقے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
