ایران نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے کے امریکی مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے، تاہم تہران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ افزودگی کی سطح اور اس کی خالصیت پر بات چیت کے لیے تیار ہے، جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات سے منسلک ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق تہران نے واضح کیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوگا، تاہم افزودگی کی شرح، خالصیت کی حد اور ممکنہ علاقائی کنسورشیم کے قیام جیسے معاملات پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔ سفارتکار نے کہا کہ ایرانی قیادت کا تاثر ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھتے دکھائی دیے اور انہوں نے تہران کے بعض مطالبات پر لچک کا مظاہرہ بھی کیا۔
ذرائع کے مطابق مسقط میں ہونے والے اس دورِ مذاکرات کے دوران ایران کی میزائل صلاحیتوں یا دفاعی پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق فی الحال صرف جوہری معاملے تک محدود رہنا چاہتے ہیں تاکہ کسی ممکنہ پیش رفت کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ کسی حتمی معاہدے یا بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی حلقوں میں اس بات کو مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہوئے بلکہ آئندہ دور کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے افزودگی مکمل طور پر روکنے سے انکار اس کی داخلی سیاسی حکمت عملی اور خودمختاری کے بیانیے کا حصہ ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے جزوی لچک مستقبل میں کسی عبوری سمجھوتے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ عمان ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے جاری رکھے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی، پابندیوں کا دباؤ اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی اس معاملے کو مزید حساس بنا چکی ہے۔ اب نظریں آئندہ دورِ مذاکرات پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ کیا دونوں فریق اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا کشیدگی کی نئی لہر جنم لے گی۔
