واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ کینتھ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ڈالر کی قلت اور مالی دباؤ کے پسِ منظر میں امریکا کی پالیسیوں کا کردار تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹر کیٹی الزبتھ کی جانب سے سینیٹ میں سوال کیا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تحت کون سے عملی اقدامات کیے۔ اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا نے ایران میں ڈالر کی دستیابی محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں شدید مالی بحران پیدا ہوا۔
اسکاٹ کینتھ نے بتایا کہ دسمبر میں ایک ایرانی بینک دیوالیہ ہوگیا، جس کے بعد مالی بحران نے مزید شدت اختیار کر لی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکام کا یہ بیان ایران کے خلاف جاری معاشی پابندیوں اور "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کی ایک واضح عکاسی ہے، جس کا مقصد تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر نظرِ ثانی پر مجبور کرنا تھا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایران امریکی پابندیوں کو "اقتصادی جنگ” قرار دیتا رہا ہے
