امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیوں نے جہاں ایک جانب عالمی سطح پر امید کی فضا پیدا کی ہے، وہیں اسرائیل نے ان مذاکرات کے دائرہ کار کو محدود رکھنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تل ابیب کا مؤقف ہے کہ اگر مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے تو یہ خطے کے بڑے سکیورٹی خطرات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ تہران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں نہ صرف ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا شامل ہونا چاہیے بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جائیں اور خطے میں سرگرم ایران نواز مسلح گروہوں کی مالی و عسکری حمایت کا خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی نظام ماضی میں بارہا اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کر چکا ہے، اس لیے محض یقین دہانیوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران جس رفتار سے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میزائل پروگرام کو مذاکرات سے الگ رکھنا ایک اسٹریٹجک غلطی ہوگی۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاملے پر اسرائیل کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب عسکری گروہوں کی طاقت ختم کی جائے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی چیف آف اسٹاف عبد الرحیم موسوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کوئی علاقائی جنگ چھڑتی ہے تو اس کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران مکمل عسکری تیاری کے باوجود جنگ کا آغاز کرنے کا خواہاں نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ حالیہ مذاکرات صرف جوہری فائل تک محدود رہے اور آئندہ متوقع دوسرے دور میں بھی بیلسٹک میزائل پروگرام زیر بحث نہیں آئے گا۔ ان کے مطابق کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید تکنیکی اور سفارتی مشاورت درکار ہے۔
یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آئندہ بدھ کو واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ ذرائع کے مطابق تل ابیب کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے زیر اثر مسلح گروہوں کا کردار بھی شامل کیا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو امریکہ اور ایران دونوں نے مثبت قرار دیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی آپشن کا بار بار ذکر سفارتی عمل پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
یوں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر سفارتکاری اور عسکری تناؤ کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے یا خطے کی بڑی اسٹریٹجک گتھیاں بھی اسی میز پر سلجھائی جائیں گی؟ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ عمل امن کی طرف پیش رفت ہے یا کسی نئے بحران کی تمہید۔
