ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 37 برسوں میں پہلی بار 8 فروری کو منعقد ہونے والی فضائیہ کے کمانڈوز کی سالانہ تقریب میں شرکت نہیں کی، جس کے بعد سیاسی و سفارتی حلقوں میں مختلف سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ تقریب 1979ء کے اسلامی انقلاب سے قبل ایرانی فضائیہ کے افسران کی روح اللہ خمینی سے تاریخی بیعت کی یاد میں ہر سال منعقد کی جاتی ہے۔ اس موقع پر سپریم لیڈر کی شرکت کو نہ صرف ایک علامتی اہمیت حاصل ہوتی ہے بلکہ اسے ایرانی ریاستی تسلسل اور عسکری قیادت کے ساتھ تعلق کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی نے فضائیہ کے کمانڈوز سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کیا۔ سرکاری سطح پر خامنہ ای کی عدم شرکت کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے 1989ء میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے ہر سال اس تقریب میں شرکت کی ہے۔ حتیٰ کہ کورونا وبا کے دوران بھی انہوں نے اس روایت کو برقرار رکھا، جس کے باعث اس سال کی غیر حاضری غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور خطے میں کشیدگی کی فضا پائی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس غیر حاضری کے مختلف ممکنہ پہلو ہو سکتے ہیں، تاہم سرکاری وضاحت سامنے آنے تک حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ایرانی سیاسی منظرنامے میں سپریم لیڈر کی سرگرمیاں ہمیشہ خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید وضاحت یا سرکاری ردعمل متوقع ہے۔
