ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا، تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں اور کسی بھی تصدیق کے لیے تیار ہے۔
بدھ کے روز اسلامی انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تہران کے آزادی اسکوائر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہاہمارا ملک ایران ان کے ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گا۔ ہمارا ایران جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ پیزشکیان نے کہا کہ اگرچہ امریکا کی جانب سے فوجی دھمکیوں کا ماحول موجود ہے، ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہاہم جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ ہم یہ بات بارہا دہرا چکے ہیں اور اپنے جوہری پروگرام کی کسی بھی تصدیق کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی صدر کے اس بیان کو ایک طرف سخت مؤقف اور دوسری طرف سفارتی لچک کے امتزاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران ایک ایسے توازن کی کوشش کر رہا ہے جس میں قومی خودمختاری کا پیغام بھی دیا جائے اور مذاکرات کا راستہ بھی بند نہ ہو۔
دوسری جانب امریکا اور مغربی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام پر شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی بڑھانے پر زور دے رہی ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ مذاکرات عالمی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
