اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی صرف کسی ملک یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ یہ بیان انہوں نے بحرینی ہم منصب راشد بن عبداللہ الخلفیہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران دیا، جس میں دونوں وزراء نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں حالیہ خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ "مسجد پر حملہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کے خلاف ایک وحشیانہ جرم ہے۔ ایسے حملے کسی بھی مذہب یا قوم کی نظر میں قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جامع اور مؤثر اقدامات کیے ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھی اس جنگ میں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہو۔
اس موقع پر بحرینی وزیر نے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحرین ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ دہشتگردی کے خلاف ہمارے تعلقات مضبوط ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ دہشتگردی کا خاتمہ محض قومی سطح پر ممکن نہیں، بلکہ عالمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور مربوط حکمت عملی کے بغیر اس کا مستقل حل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں، لیکن عالمی برادری کے تعاون سے ہی ایسے المناک حملوں کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، دونوں وزراء نے دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھانے، معلومات کے تبادلے، اور انسداد دہشتگردی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بات کی۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی اداروں اور اتحادی ممالک سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔
تحلیل کاروں کے مطابق، اسلام آباد کے مسجد میں خودکش حملے نے پاکستان کے داخلی سیکیورٹی نظام کے چیلنجز کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں صرف داخلی اقدامات کافی نہیں، بلکہ عالمی شراکت داری اور معلوماتی تعاون کی بھی اشد ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے یہ بیان اس تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور سیکیورٹی کے لیے خود کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے
