عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ 2025 عرب اوپینین انڈیکس کے مطابق عرب دنیا کے 87 فیصد شہری اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مخالف ہیں، جبکہ محض 6 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ سنہ 2011 سے باقاعدگی سے منعقد کیے جانے والے اس سروے کے تازہ ایڈیشن میں 15 عرب ممالک کے 40 ہزار سے زائد افراد سے سیاست، معیشت، شناخت اور علاقائی امور پر رائے لی گئی۔
ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سینیئر فیلو تمارا خروب نے کہا کہ بھاری اکثریت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت کرتی ہے، اور یہ رجحان 2014 سے تقریباً اسی سطح پر برقرار ہے۔ سروے میں الجزائر، مصر، عراق، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، موریطانیہ، مراکش، فلسطین، قطر، سعودی عرب، سوڈان، شام اور تیونس شامل تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سب سے زیادہ مخالفت لیبیا (96 فیصد)، اردن (95 فیصد)، کویت (94 فیصد) اور فلسطین (91 فیصد) میں ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مخالفت کرنے والوں کی بڑی تعداد نے اس کی بنیادی وجوہات اسرائیل کی ’نوآبادیاتی، نسلی امتیازی اور توسیع پسندانہ نوعیت‘ اور فلسطینی علاقوں پر جاری قبضے کو قرار دیا، جبکہ مذہبی یا ثقافتی بنیادوں پر دلائل نسبتاً کم سامنے آئے۔
تمارا خروب کے مطابق 2022 کے مقابلے میں 2025 کے سروے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت میں مزید دو فیصد پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حمایت کرنے والے چھ فیصد افراد میں سے نصف نے اسے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط قرار دیا۔
سینٹر کے فلسطین/اسرائیل پروگرام کے سربراہ اور سینیئر فیلو یوسف منیر نے کہا کہ اسرائیل کو اب بھی بڑے پیمانے پر ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ شراکت دار، اور حالیہ برسوں میں اس تاثر میں مزید شدت آئی ہے، خصوصاً غزہ کی صورتحال کے بعد۔
سروے کے دیگر نتائج کے مطابق 70 فیصد افراد شام اور اسرائیل کے درمیان ایسے کسی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں جس میں شامی گولان کی واپسی شامل نہ ہو۔ مزید برآں، 76 فیصد جواب دہندگان نے مختلف قومیتوں کے باوجود عرب دنیا کو ایک ’واحد قوم‘ یا ’عرب قوم‘ تصور کیا، جو خطے میں مشترکہ شناخت کے مضبوط احساس کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ سروے خطے کی سیاسی نفسیات اور عوامی رجحانات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم اشاریہ تصور کیا جا رہا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی و تزویراتی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے

Add A Comment