غزہ میں جاری تنازع ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی اپنے دوسرے مرحلے میں پہنچ گئی ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کو بتدریج غیر فوجی بنانے، بشمول حماس کو غیرمسلح کرنے، اور اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ تاہم اس پیش رفت کے باوجود فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
خالد مشعل، جو اس سے قبل حماس کے سربراہ رہ چکے ہیں، طویل عرصے سے اس تنظیم کی سیاسی اور عسکری حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ حماس خود کو فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی تحریک قرار دیتی ہے اور اسی تناظر میں 7 اکتوبر 2023 کو غزہ سے اسرائیل میں ایک مہلک حملہ کیا گیا، جس کے بعد وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ گئی۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں سیکیورٹی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور عسکری سرگرمیوں کے خاتمے پر زور دیا جا رہا ہے۔ تاہم حماس نے بارہا واضح کیا ہے کہ غیرمسلح ہونا اس کے لیے ایک ’سرخ لکیر‘ ہے۔ اگرچہ تنظیم نے یہ عندیہ ضرور دیا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی متفقہ فلسطینی حکومتی اتھارٹی کو اپنے ہتھیار سونپنے پر غور کر سکتی ہے، لیکن مکمل غیرمسلح ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ حماس کے پاس اب بھی غزہ میں تقریباً 20 ہزار جنگجو موجود ہیں اور لگ بھگ 60 ہزار کلاشنکوف اسلحہ ان کے زیرِ استعمال ہے۔ اسرائیل کے نزدیک پائیدار امن کے لیے حماس کا عسکری ڈھانچہ ختم کرنا ناگزیر ہے، جب کہ حماس اسے اپنی بقا اور مزاحمت کی ضمانت قرار دیتی ہے۔
اسی دوران غزہ کی تباہ حال پٹی میں روزمرہ انتظامی امور سنبھالنے کے لیے ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد بنیادی شہری خدمات کی بحالی، امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور ادارہ جاتی نظم و نسق کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ کمیٹی بورڈ آف پیس کے تحت کام کر رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شروع کردہ ایک اقدام کا حصہ ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد نہ صرف غزہ بلکہ دیگر عالمی تنازعات میں بھی سفارتی پیش رفت کو تقویت دینا بتایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے اس دوسرے مرحلے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا حماس اور اسرائیل کسی درمیانی راستے پر متفق ہو پاتے ہیں یا نہیں۔ اگر غیرمسلح ہونے کے معاملے پر کوئی قابلِ قبول فارمولا طے نہ پایا تو امن عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف غزہ ہی نہیں بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
