ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں حکومت مخالف نئی سرگرمیوں کی اپیل کرتے ہوئے بیرونِ ملک ایرانیوں کو منظم احتجاج کی کال دے دی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا میں مقیم رضا پہلوی نے ہفتے کے روز جرمنی کے شہر میونخ، کینیڈا کے ٹورنٹو اور امریکی شہر لاس اینجلس میں مظاہروں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد ایران کی موجودہ صورتحال پر عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کرنا ہے۔
رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم ایرانی شہری ایران کے اندر موجود عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ایران کے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ 14 اور 15 فروری کی شام 8 بجے اپنے گھروں اور چھتوں سے نعرے لگا کر احتجاج میں شریک ہوں۔ ان کے بقول، ’’اسی جذبے کے تحت میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے مطالبات پیش کریں اور آواز بلند کریں۔‘‘
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ ایران میں مہنگائی اور سخت معاشی حالات کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے تھے۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ پرامن مظاہروں کی آڑ میں شرپسند عناصر نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے۔
پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق ان پرتشدد واقعات میں 3 ہزار 117 افراد جاں بحق ہوئے تھے، تاہم انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کی جانب سے مختلف اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کی حالیہ کال سے بیرونِ ملک احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ایران کے اندر بھی سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔
