جنیوا: آئندہ منگل کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔
ایرانی دفاعی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے ہفتے کے روز فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ میزائل سسٹم تہران کی “ریڈ لائن” ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ شمخانی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی مہم جوئی یا خطرے کا بھرپور اور متناسب جواب دینے کے لیے تیار ہے، اور ان کے مطابق اسرائیل بغیر امریکہ کی براہ راست مدد کے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔
ایران نے بارہا موقف اختیار کیا ہے کہ جوہری مذاکرات صرف اور صرف جوہری فائل تک محدود رہیں گے، اور بیلسٹک میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتیں قومی خودمختاری کا حصہ ہونے کے ناطے غیر مذاکراتی ہیں۔
دوسری جانب، امریکی انتظامیہ اکثر یہ اشارہ دیتی رہی ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور خطے میں اس کے حلیف گروہوں کی حمایت پر تبادلۂ خیال ضروری ہے۔ اسرائیل نے بھی واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں یہ دونوں امور شامل کیے جائیں، ورنہ کوئی بھی معاہدہ غیر مؤثر ہو گا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ فی الحال جوہری مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے عسکری آپشن کی طرف بھی اشارہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔
توقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی منگل کو جنیوا پہنچیں گے، جہاں وہ امریکی ایلچی اسٹيو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں ایران کی جوہری سرگرمیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے مسائل زیر بحث آئیں گے، لیکن بیلسٹک میزائل پروگرام کے موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب خطے کی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں جنیوا پر مرکوز ہیں کہ آیا ایران اور امریکہ کسی معاہدے تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔
