ایران کی طاقتور عسکری فورس اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ نے عالمی سطح پر انتہائی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ’اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز‘ کے عنوان سے بڑے پیمانے پر مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ان مشقوں کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور خود کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ مانیٹرنگ اور آپریشنل جائزہ بھی براہِ راست اعلیٰ عسکری قیادت کی زیر نگرانی جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان مشقوں کا بنیادی مقصد پاسدارانِ انقلاب بحریہ کی مختلف یونٹس کی آپریشنل تیاریوں، تیز رفتار ردعمل کی صلاحیت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کا عملی جائزہ لینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے حساس علاقے میں ممکنہ سکیورٹی اور فوجی خطرات کی صورت میں فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کے منصوبوں کو بھی پرکھا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں ایران کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ان مشقوں کا کلیدی پہلو ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی عسکری سرگرمی کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
یہ بحری مشقیں ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے اشارے دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں عسکری سرگرمیوں اور سفارتی بیانات میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کی یہ مشقیں خطے میں طاقت کے توازن، سمندری سلامتی اور اسٹریٹجک پیغام رسانی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں۔
