مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے صحن سے امام شیخ محمد العباسی کو گرفتار کر لیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نیوز ایجنسی کے مطابق امام کو اچانک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے گرفتاری کی واضح وجہ تاحال سامنے نہیں لائی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب مسجد کے احاطے میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔
ذرائع کے مطابق امام کی گرفتاری کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ متعدد داخلی دروازوں پر چیکنگ کے عمل کو بڑھایا گیا جبکہ بعض افراد کو مسجد میں داخلے سے روک دیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ صیہونی حکام نے بعض مذہبی شخصیات کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، جس کے باعث مقامی فلسطینیوں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کے احترام کے منافی ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں حماس نے کہا کہ امام کو مسجد میں داخلے سے روکنا اور انہیں گرفتار کرنا اشتعال انگیز اقدام ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ فلسطینی عوام اور پوری امتِ مسلمہ کا مقدس مقام ہے، اور اس کے تقدس کو مجروح کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسجد اقصیٰ سے متعلق ہر اقدام خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیتا ہے۔ بیت المقدس کا یہ مقدس مقام عرصہ دراز سے سیاسی اور مذہبی تنازعات کا مرکز رہا ہے، اور ایسے اقدامات حالات کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔
مقامی فلسطینی رہنماؤں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تقدس کے تحفظ اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔
