ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایران اور روس جمعرات کو بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری فوجی مشقیں کریں گے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا آغاز کیا تھا، جس سے خطے میں عسکری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فارس نیوز کے مطابق ایرانی بحریہ کے کمانڈر حسن مقصودلو نے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو درپیش خطرات کا مشترکہ مقابلہ کرنا اور بحری دہشت گردی کے خلاف ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ ان کے بقول، “سمندری سلامتی و تحفظ کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات میں ہم آہنگی اور عملی تعاون ناگزیر ہے۔”
اس ہفتے کے آغاز میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کے بعض حصے فوجی مشقوں کے دوران احتیاطی اقدامات کے تحت چند گھنٹوں کے لیے بند بھی کیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل بردار جہازوں کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں کسی بھی عسکری سرگرمی کو بین الاقوامی منڈیوں اور سفارتی ماحول میں گہری دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات متوقع ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحری مشقیں سفارتی دباؤ بڑھانے یا اسٹریٹجک پیغام دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہیں، تاکہ مذاکراتی عمل میں ایران اپنی عسکری تیاری اور علاقائی اثر و رسوخ کو اجاگر کر سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں نہ صرف عسکری تعاون کی علامت ہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کو ایک واضح پیغام بھی دیتی ہیں کہ خطے میں نئی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند میں سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع ہونے سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کی نظریں اب جنیوا مذاکرات اور خلیجی پانیوں میں جاری عسکری سرگرمیوں پر مرکوز ہیں، جہاں سفارت کاری اور طاقت کے مظاہرے بیک وقت جاری ہیں
