مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے جہاں امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ United States رواں ہفتے کے اختتام تک Iran کے خلاف محدود یا وسیع فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدر Donald Trump عسکری قیادت اور سفارتی مشیروں سے مسلسل تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ممکنہ کارروائی کے سیاسی، عسکری اور علاقائی اثرات پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی اقدام سے قبل تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق فیصلہ نہایت حساس نوعیت کا ہے اور اس کے نتائج پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی افواج نے خطے میں اپنی تیاریوں کو مکمل کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ عسکری نقل و حرکت میں اضافہ اور حفاظتی اقدامات کی سختی سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ممکنہ امریکی اقدام کے خدشات کے پیشِ نظر Israel میں بھی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، قریبی محفوظ پناہ گاہوں سے آگاہ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی کی تو تہران جوابی اقدام کے طور پر میزائل حملے کر سکتا ہے، جس سے خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ تیل کی رسد اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
