واشنگٹن میں منعقدہ ’’پیس کونسل‘‘ کے پہلے تاریخی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے غزہ کی صورتحال کو خطے اور دنیا کے لیے ایک سنجیدہ انسانی و سیاسی چیلنج قرار دیتے ہوئے فوری، جامع اور پائیدار جنگ بندی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بحرینی فرمانروا ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکی دارالحکومت پہنچے، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کے روبرو بحرین کے اس مؤقف کو دہرایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن صرف بامقصد مذاکرات، تعمیری سفارت کاری اور مشترکہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شاہ حمد بن عیسیٰ نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ بحرین عالمی برادری کی اُن تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے، شہری آبادی کے تحفظ اور انسانی بحران کی شدت کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے میں سیاسی استحکام اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
بحرینی فرمانروا نے غزہ کی وسیع پیمانے پر تباہی کے تناظر میں تعمیرِ نو کے منظم اور شفاف منصوبے کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ عالمی برادری کو مل کر ایسے عملی اقدامات کرنے چاہئیں جو متاثرہ آبادی کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کو یقینی بنا سکیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز، قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے پیش رفت کو ناگزیر قرار دیا۔
اپنے خطاب میں شاہ حمد نے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قابلِ عمل منصوبے کی کامیابی اس بات سے مشروط ہے کہ وہ تمام فریقین کے مفادات، سلامتی اور خودمختاری کا احترام کرے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک منصفانہ حل کی راہ ہموار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’پیس کونسل‘‘ کا قیام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی قیادت تنازعات کے حل کے لیے اجتماعی سوچ اپنانے پر آمادہ ہے، اور بحرین اس عمل میں فعال اور مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یکطرفہ اقدامات کے بجائے شراکت داری، باہمی اعتماد اور مکالمے کی فضا کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بحرین نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، اعتدال اور بقائے باہمی کے اصولوں کا حامی ہے، اور آئندہ بھی ایسے ہر اقدام کی حمایت جاری رکھے گا جو شہریوں کے تحفظ، عوامی مفادات کے فروغ اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن و خوشحالی کے قیام میں معاون ثابت ہو۔
