مصر میں ایٹمی توانائی کی ماہر 66 سالہ خاتون انجینئر لیلیٰ کی بے گھری کی خبر نے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اطلاعات کے مطابق لیلیٰ کو ملک کے جنوب میں واقع صوبے جیزہ کی ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر سوتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں وہ گذشتہ 8 ماہ سے دربدر زندگی گزار رہی تھیں۔
ذرائع کے مطابق لیلیٰ قدیم کرایہ داری کے نظام کے تحت ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھیں، تاہم مکان مالک کی جانب سے کرایے میں اضافے کی خواہش اور تنازع کے نتیجے میں وہ بے گھر ہو گئیں۔ اس دوران مکان مالک کی جانب سے جسمانی تشدد بھی کیا گیا اور لیلیٰ اپنی ذاتی اشیاء اور اہم دستاویزات سے بھی محروم ہو گئیں۔
سوشل میڈیا پر واقعہ سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید حیرت اور ہمدردی پیدا ہوئی، اور مقامی حکومت نے فوری کارروائی کی۔ جیزہ کی سوشل سالیڈیرٹی ڈائریکٹوریٹ اور مرکزی ریپڈ انٹروینشن ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر معاملہ حل کیا اور لیلیٰ کو انسانی امداد فراہم کی۔
اب لیلیٰ کو صوبہ جیزہ میں انسانی فلاح کے لیے چلنے والے "دار الخیر” منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں تمام ضروری سماجی، نفسیاتی اور طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ لیلیٰ کی رہائش، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی بحالی کو بھی یقینی بنایا جائے گا، تاکہ وہ دوبارہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بحال ہو سکیں۔
سوشل میڈیا پر اس واقعہ نے انسانی ہمدردی کی اہمیت اور کمزور طبقے کے تحفظ کے بارے میں وسیع بحث بھی چھڑوا دی ہے، اور یہ المیہ مصر میں شہریوں اور حکومتی اداروں کے درمیان تعاون کے لیے ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
