مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور بحری طاقت کے مظاہرے کے باوجود ایران کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے پر امریکی صدر ڈونلڈ کی مایوسی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ سفارتی اور عسکری دباؤ کے امتزاج کے باوجود تہران کی قیادت نے اپنے مؤقف میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی، جس پر وائٹ ہاؤس کے اندر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیووٹکوف نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے ان سے براہِ راست استفسار کیا کہ اتنی بڑی بحری و فوجی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے یا کم از کم ہتھیار نہ بنانے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا۔ وٹکوف کے مطابق صدر نے کہا کہ امریکا نے خطے میں اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کر لی ہے، تو پھر ایران کی جانب سے واضح اعلان کیوں سامنے نہیں آ رہا کہ اسے اسلحہ پروگرام کی ضرورت نہیں۔
مذاکرات: دو ادوار، مگر کوئی پیش رفت نہیں
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں نہ تو کسی بڑے بریک تھرو کی خبر آئی ہے اور نہ ہی کسی جامع معاہدے کی سمت پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے مؤقف میں بدستور نمایاں فرق برقرار ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ امریکا اس پروگرام کو محدود یا مکمل طور پر ختم کرانے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ یہی کشمکش مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار کیے ہوئے ہے۔
بحری طاقت میں اضافہ، ایک اور طیارہ بردار جہاز روانہ
دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری قوت میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی اور عسکری ذرائع کے مطابق ایک اور امریکی ایئر کرافٹ کیریئر ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں امریکی موجودگی کو مزید مستحکم کرنا اور ایران پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔
امریکی حکمتِ عملی بظاہر زیادہ دباؤ، زیادہ نتائج کے فارمولے پر مبنی دکھائی دیتی ہے، تاہم اب تک کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران نے اس دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے اپنے بیانیے کو مزید سخت کیا ہے۔
خطے میں کشیدگی کا نیا مرحلہ برقرارہےسیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی اور عسکری سرگرمیاں اسی طرح بڑھتی رہیں تو خطہ ایک نئی کشیدگی کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورا مشرق وسطیٰ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔
فی الحال صورتحال یہ ہے کہ طاقت کا مظاہرہ اپنی جگہ، مگر ایران کا مؤقف اپنی جگہ قائم ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس نے واشنگٹن میں حکمت عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Add A Comment