مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں امریکا کے ساتھ حالیہ سفارتی روابط کو محتاط انداز میں حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان عملی اور قابلِ عمل تجاویز کا تبادلہ ہوا، جس سے مثبت پیش رفت کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعمیری مکالمے کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے، تاہم وہ امریکی پالیسیوں اور عملی اقدامات پر مسلسل اور گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تبدیلی یا دباؤ کی صورت میں فوری اور مؤثر ردِعمل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے سفارتی اور دفاعی دونوں محاذوں پر ضروری تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں اور قومی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بیان کو خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر بدلتی سیاسی صف بندی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سے جنیوا میں ممکنہ ملاقات متوقع ہے، جو جاری تناؤ کے ماحول میں ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سنجیدہ اور باوقار مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی جارحیت یا عسکری اقدام کیا گیا تو ایران اپنے دفاع کا مکمل اور قانونی حق استعمال کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل کا روشن امکان موجود ہے، بشرطیکہ مذاکرات باہمی احترام، برابری اور عملی ضمانتوں کی بنیاد پر آگے بڑھائے جائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے بیک وقت مثبت سفارتی اشارے اور سخت دفاعی مؤقف اختیار کرنا ایک متوازن حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دباؤ کو کم کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنیوا میں متوقع ملاقات کامیاب رہتی ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کر سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے امکانات کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔
