اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں جمع کرائی گئی رقوم کی مدت میں ایک سالہ توسیع نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم حکومت نے اس معاملے کو معمول کی مالیاتی کارروائی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی قسم کا بحران درپیش نہیں۔ یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب عالمی مالیاتی فنڈ کے جائزہ وفد نے ملک کی معاشی صورتحال، بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مجموعی طور پر تین ارب ڈالر بینک دولتِ پاکستان میں جمع ہیں۔ ان میں سے ایک، ایک ارب ڈالر کے دو حصے جنوری میں اپنی مدت پوری کر چکے تھے۔ ابتدا میں ان کی مدت ایک ماہ کے لیے بڑھائی گئی، بعد ازاں انہیں عارضی طور پر اپریل تک توسیع دے دی گئی ہے، جبکہ طویل مدت کے لیے باضابطہ توسیع پر مذاکرات جاری ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان رقوم پر ساڑھے چھ فیصد سے زائد منافع ادا کرنا پڑ سکتا ہے، جو مالی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد نے کراچی اور اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران بینک دولتِ پاکستان کے اعلیٰ حکام سے تفصیلی بات چیت کی۔ مذاکرات میں زرمبادلہ کے ذخائر، شرح مبادلہ کی پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط، منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب جیسے امور زیر غور آئے۔ وفد نے زور دیا کہ متحدہ عرب امارات سے طویل مدت کے لیے واضح اور تحریری یقین دہانی حاصل کرنا معاشی استحکام کے لیے اہم ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رول اوور میں کوئی مسئلہ نہیں اور حکومت تمام معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قلیل مدتی انتظامات مکمل ہیں جبکہ برادر ملک کے ساتھ طویل مدتی توسیع کے لیے بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ملک کو فوری طور پر کسی بڑے مالی خطرے کا سامنا ہے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی یقین دہانی کرائی کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی رقوم واپس نہیں لیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون برقرار ہے۔ تاہم بعض سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریری یقین دہانی کا حصول نہایت اہم ہے کیونکہ جاری معاشی جائزے میں اس پیش رفت کو واضح طور پر شامل کیا جائے گا۔
ادھر بینک دولتِ پاکستان نے بتایا کہ جنوری میں ملک کا جاری کھاتہ ایک سو اکیس ملین ڈالر فاضل رہا، جو گزشتہ برس اسی مہینے کے خسارے کے مقابلے میں بہتری کی علامت ہے۔ تاہم رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں مجموعی خسارہ ایک ارب چوہتر کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اماراتی رقوم کی بروقت توسیع ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اور آئندہ چند ہفتے اس حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
