مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جب اسرائیل کے وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ہفتے کی صبح اچانک اعلان کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف پیشگی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اپنے سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے کیا گیا ہے اور اسے ایک دفاعی اقدام قرار دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اسرائیل بھر میں فوری طور پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، شہری دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا اور ملک کے مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس سے عوام میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے قریب ترین محفوظ پناہ گاہوں سے آگاہ رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ فوج نے واضح کیا کہ یہ پیشگی انتباہ ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے، تاہم فوری طور پر شیلٹرز میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، دفاتر میں گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری ہوئی اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت تہران کے وسطی علاقوں میں کم از کم چار زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر کی مرکزی شاہراہوں کے اطراف سے گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز اور ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گئیں۔ اگرچہ ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم حساس تنصیبات کے گرد حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور فضائی نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک نہایت حساس وقت پر سامنے آئی ہے جب ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات جاری تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور جاری سفارتی عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
بعض ماہرین اسے ایک واضح پیغام قرار دے رہے ہیں کہ اسرائیل ایران کے ممکنہ عسکری یا جوہری خطرے کو کسی بھی مرحلے پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ دیگر حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس اقدام سے خطے میں وسیع تر فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر سکتی ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الوقت دونوں ممالک کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں آنے والے چند گھنٹوں اور دنوں پر مرکوز ہیں جو اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے
