اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایک خفیہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام ایٹمی مقامات کے معائنے کی فوری اجازت دے۔ رپورٹ میں خاص طور پر اصفہان نیوکلیئر کمپلیکس کو تشویش کا مرکز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہاں نئی افزودگی کی تنصیب موجود ہے اور وہاں ذخیرہ کیے گئے یورینیم بم بنانے کے قریب ترین درجے، یعنی 60 فیصد افزودگی کی سطح، تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سطح جوہری ہتھیاروں کے 90 فیصد تک پہنچنے کے قریب ترین مرحلے کے برابر سمجھی جاتی ہے، جس سے عالمی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز نے رپورٹ دیکھی ہے جس میں کہا گیا کہ اگرچہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ فوجی حملوں نے غیر معمولی حالات پیدا کیے ہیں، پھر بھی معائنہ کاروں کو ایران میں تصدیقی سرگرمیاں بغیر کسی تاخیر کے انجام دینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ 35 رکنی بورڈ کے سہ ماہی اجلاس سے پہلے ایجنسی کے اراکین کو بھیجی گئی، اور یہ ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں۔ اس مذاکرات کا تیسرا دور بغیر کسی نمایاں پیش رفت کے منعقد ہوا تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصفہان نیوکلیئر کمپلیکس میں سرنگوں کے داخلی راستے پہلے اور بعد میں بھر دیے گئے اور مٹی سے ڈھک دیے گئے، جس سے اس بات کا تاثر ملتا ہے کہ ایران نے کچھ سرگرمیاں چھپانے کی کوشش کی۔
ایجنسی کی رپورٹ میں ایران سے تعمیری تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ تمام جوہری مواد کی تصدیق کو یقینی بنایا جا سکے اور حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد ممکن ہو۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایجنسی کو اب تک ایران کی چار اعلام شدہ افزودہ یورینیم تنصیبات تک رسائی نہیں ملی، اور نہ ہی تہران نے حملے سے متاثرہ تنصیبات کی حالت یا ان میں موجود مواد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ فوری اور مؤثر تعاون نہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے خدشات کو کم کرے گا بلکہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کی حفاظت اور تصدیقی سرگرمیوں کی مستقل انجام دہی کو بھی یقینی بنائے گا۔
یہ رپورٹ ویانا میں 2 مارچ 2026 سے ہونے والے تکنیکی مذاکرات سے پہلے جاری کی گئی، جہاں ایران اور امریکہ کے وفود جوہری معاہدے کے تکنیکی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تاہم ایران کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح معائنہ یا اطلاع فراہم نہ کرنا عالمی برادری کے خدشات میں اضافہ کر رہا ہے، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اصفہان میں موجود یورینیم ذخائر بم بنانے کے قریب ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی جوہری نگرانی کے نظام کی جانچ بھی کر رہی ہے، اور بین الاقوامی برادری کی نظر ایران کے فوری اور شفاف تعاون پر مرکوز ہے
