مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متحدہ عرب امارات سے ایران اور اسرائیل جانے والی متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ مقامی ایئرپورٹس کی ویب سائٹس کے مطابق، اس صورتحال کی وجہ سے فلائٹ شیڈول متاثر ہو رہا ہے اور مسافر بروقت اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
یورپی ایئرلائن Wizz Air نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور عمان کے لیے اپنی تمام پروازیں فوری طور پر 7 مارچ تک معطل کر رہی ہے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ وہ حالات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور مقامی و عالمی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسی طرح، نورویجن ایئرلائن نے بھی دبئی سے آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔
ادھر، اسرائیل نے اپنی فضائی حدود عام پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں اور آنے والی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ ایران نے بھی فضائی حدود بند کرنے کے ساتھ بعض علاقوں میں عارضی ٹیلی کمیونیکیشن پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس سے یورپ، خلیج اور ایشیا کو ملانے والا اہم فضائی راستہ متاثر ہوا ہے۔ قطر نے بھی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ کے مطابق، طویل فاصلے کی پروازیں اب سعودی عرب کے اوپر سے جنوب کی جانب یا وسطی ایشیا کے راستے شمال کی جانب سے گزر رہی ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور کنکشن فلائٹس متاثر ہو رہی ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے، تاہم ایمریٹس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں تاکہ ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے بچا جا سکے۔
ابوظہبی ایئرپورٹ کھلا ہے، لیکن اتحاد ایئرویز نے بھی متبادل روٹس اختیار کر لیے ہیں۔ طویل فاصلے کی کچھ پروازوں میں عملیاتی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سعودی فضائی حدود کھلی ہیں، اور سعودی ایئرلائن شمالی روٹس میں ردوبدل کر رہی ہے، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں کم متاثر ہوئی ہے۔ جغرافیائی محل وقوع کے باعث جدہ اور ریاض عارضی طور پر متبادل ٹرانزٹ حب کے طور پر زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔
یہ اقدامات کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر مسافروں اور ایئرلائنز کی حفاظت اور آپریشنل تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
