مشرقِ وسطیٰ میں اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد تہران نے نہایت سخت ردعمل دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی مفادات اب براہِ راست نشانے پر آ سکتے ہیں۔ ایرانی قیادت کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ صورتحال تیزی سے ایک وسیع تر تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملے ایک وقتی کارروائی نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ کونسل کے مطابق دستیاب معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران سمیت چند دیگر اہم شہروں پر مزید حملوں کا امکان موجود ہے۔ اس پیش نظر حکام نے تعلیمی اداروں کو اگلے حکم تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ بینکنگ نظام کو معمول کے مطابق کام جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ شہری زندگی مکمل طور پر مفلوج نہ ہو۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی مشترکہ فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری تھا۔ تہران نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک، خصوصاً اسلامی اور علاقائی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اقدام کی مذمت کریں اور اجتماعی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائیں، کیونکہ اس سے عالمی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے ہفتے کے روز غیر معمولی شدت کے ساتھ بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں کے بعد “تمام سرخ لکیریں عبور ہو چکی ہیں”۔ ان کے بقول ایسے منظرنامے جنہیں پہلے صرف امکان کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اب حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا ردعمل کھلا اور براہِ راست ہوگا، اور اس میں کسی قسم کی حد بندی نہیں رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو آئندہ مرحلے کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے کیونکہ جواب غیر اعلانیہ نہیں بلکہ علانیہ ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ ان بیانات نے سفارتی حلقوں میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی متعدد ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی حملوں کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی اداروں کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں مقبوضہ علاقوں کی طرف میزائلوں اور ڈرونز کی پہلی لہر روانہ کی جا چکی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی مرحلہ وار ہو سکتی ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید اقدامات متوقع ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایرانی سرزمین سے متعدد میزائل داغے گئے جنہیں مختلف دفاعی نظاموں کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ دفاعی نظاموں کی سرگرمی کے باعث کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خطے کے دیگر ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ بحرین نے اعلان کیا کہ جفیر کے علاقے میں واقع امریکی پانچویں بحری بیڑے سے متعلق ایک سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح قطر میں امریکی فضائی اڈے “العدید” کے قریب بھی الرٹ جاری کیے گئے اور سائرن سنائی دیے۔ بعض اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی اور کویت میں بھی دھماکوں جیسی آوازیں سننے میں آئیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے۔
یہ تمام پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا، جس میں تہران سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا ہدف ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایرانی نظام کے اعلیٰ رہنما ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل تھے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی سفارتی کوششوں کے تعطل کے بعد شدت اختیار کر گئی۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری ایٹمی مذاکرات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کی کسی بھی سطح کو قبول نہیں کریں گے۔ تہران پہلے ہی اس موقف کو مسترد کر چکا تھا اور اسے اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا تھا۔
ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے اعلان نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ تنازعہ محدود دائرے سے نکل کر وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ خطے میں امریکی اڈوں، بحری بیڑوں اور اتحادی ممالک کی موجودگی کے باعث کسی بھی قسم کی توسیع شدہ کارروائی کے اثرات کئی ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو توانائی کی عالمی منڈیوں، سمندری راستوں اور سفارتی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے فوری جنگ بندی اور تحمل کی اپیلیں متوقع ہیں، تاہم زمینی حقائق اس وقت انتہائی نازک نظر آتے ہیں۔ خطے کے ممالک نے اپنی فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی ہے اور سکیورٹی الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع میں پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ اسرائیل اور امریکہ اپنی کارروائیوں کو سکیورٹی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ اس کشیدہ ماحول میں سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی اور علاقائی اتحاد سب آزمائش کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ بحران محدود رہے گا یا ایک وسیع تر علاقائی تصادم میں تبدیل ہو جائے گا۔
